سندھ کا وفاق پر یونیورسٹی فنڈز روکنے کا الزام

سندھ کا وفاق پر یونیورسٹی فنڈز روکنے کا الزام

سندھ کا وفاق پر یونیورسٹی فنڈز روکنے کا الزام

 سندھ حکومت نے وفاق پر صوبے کی یونیورسٹیوں کے بجٹ میں کمی کا الزام لگایا ہے۔

صوبائی وزیر اسماعیل راہو نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے سندھ میں یونیورسٹیوں کی معاشی حالت خراب ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے سندھ یونیورسٹیوں کو دی جانے والی گرانٹ آدھی کر دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کی یونیورسٹیاں شدید مالی بحران سے دوچار ہیں۔

مزید پڑھیئے: ایم ڈی کیٹ کے خلاف ڈاکٹرقدیر کی درخواست، وزارت داخلہ و صحت سے جواب طلب

صوبائی وزیر نے کہا کہ مہنگائی کے سونامی اور تنخواہوں میں اضافے کی وجہ سے یونیورسٹیوں کے اخراجات دگنے ہو گئے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ عمران خان کی زیرقیادت حکومت نے یونیورسٹیوں کے لیے گرانٹ بڑھانے کے بجائے کم کر کے شدید معاشی بحران پیدا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت صوبے میں تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ اسماعیل راہو نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کو یونیورسٹیوں کے بجٹ میں اضافہ کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وفاق سندھ سے تمام ٹیکس جمع کرتا ہے لیکن بدلے میں کچھ ادا نہیں کیا جاتا۔ نہ تو این ایف سی ایوارڈ کا اعلان کیا گیا اور نہ ہی صوبے کو پچھلے ایوارڈ کے تحت رقم ملی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ سندھ کو وفاق سے اس کے حصے کے مطابق رقم نہیں ملی اور یہاں تک کہ وعدوں کے مطابق ادائیگی بھی نہیں کی گئی۔

                         مزید پڑھیئے: دیر میڈیکل کالج کی تعمیر 6 سال بعد بھی ایک خواب

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی سندھ کے وسائل، پانی اور پیسہ ضائع کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے تین سال میں وفاق سے فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے بہت سے ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار ہوئے۔

اسماعیل راہو نے کہا کہ سندھ حکومت یونیورسٹیوں اور بورڈز کو بحران سے نکالے گی اور ان کی مالی پریشانی جلد ختم ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے یونیورسٹیوں کے لیے 6 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

 

(یہ خبر ایکسپریس ٹریبیون کی 14 اکتوبر2021 کی اشاعت سے اخذ کی گئی ہے)

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں ©️ 2021 کیمپس گرو