پنجاب حکومت نے اسکولوں کی تشخیص پر مبنی تصور پیش کردیا

پنجاب حکومت نے اسکولوں کی تشخیص پر مبنی تصور پیش کردیا

پنجاب حکومت نے اسکولوں کی تشخیص پر مبنی تصور پیش کردیا

وزیر تعلیم پنجاب مراد راس نے کہا ہے کہ پنجاب ایجوکیشن کمیشن کا امتحانات لینے کا نظام ایک ناقص نظام ہے جہاں اساتذہ نے طلباء کو نقل کرنے میں خود ہی مدد دی تاکہ وہ اپنی جماعت کے گریڈز کو بہتر بنا کر پیش کرسکیں۔

سرسید تعلیم کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے، صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ ہم نے گریڈ پانچ کے لیے پی ای سی کے امتحانات ختم کردیئے ہیں، جہاں دیکھا گیا کہ اساتذہ نے امتحانات میں نقل اور چیٹنگ کرنے والے طلباء کو اپنی درجہ بندی میں بہتری لانے میں مدد دی۔ اس کے بجائے اب ہم نے اسکولوں کی تشخیص پر مبنی تصور متعارف کرایا ہے۔

صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ اگر کوئی استاد اپنی جماعت کے کسی دس سال کے طالب علم سے کہتا ہے کہ وہ امتحانات پاس کرنے کے لیے غیر منصفانہ طریقے استعمال کرے تو اس نسل کا تصور کیجیے جسے ہم پروان چڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو پھر بچے سوچیں گے کہ آگے بڑھنے کے لیے دھوکہ دہی کا طریقہ ہی ٹھیک ہے۔

مزید پڑھئے: پنجاب بورڈ نے ملالہ کی تصویر کو ٹیکسٹ بُک سے ہٹا دیا

انہوں نے کہا کہ ہم نے اسکولوں پر مبنی تشخیص کا نظام متعارف کروایا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اسکولوں کے نتائج کو اس طرح بہتر بنانا ہے کہ انہیں امتحانات میں کامیابی کے لیے کسی بھی طرح کے غیر منصفانہ طریقے سے ملوث ہونے کی ضرورت نہ رہے۔

صوبائی وزیر نے تصدیق کی کہ حکومت اس سال گریڈ آٹھ کے پی ای سی امتحانات کو ختم کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم تعلیم کے لیے جو بھی اقدامات کریں گے۔ اس کے نتائج ظاہر ہونے میں تھوڑا وقت تو لگے گا۔

انہوں نے کہا کہ طلباء کے یکساں قومی نصاب کا مطالعہ شروع کرنے کے دس سال بعد ہی آپ اس کا اثر دیکھیں گے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں ©️ 2021 کیمپس گرو