راولپنڈی: نجی اسکولوں کو عمارتیں خالی کرنے کے نوٹس

راولپنڈی: نجی اسکولوں کو عمارتیں خالی کرنے کے نوٹس

راولپنڈی: نجی اسکولوں کو عمارتیں خالی کرنے کے نوٹس

 

آر سی بی کا کہنا ہے کہ اگر خالی نہ کی گئیں تو عمارتوں کو ختم کردیا جائے گا

راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ (آر سی بی) نے رہائشی علاقوں میں کام کرنے والے 229 نجی اسکولوں کو رواں سال کے اختتام سے قبل اپنے احاطے کو خالی کرنے کے لیے حتمی نوٹس جاری کردیئے ہیں۔

آر سی بی حکام کے مطابق یہ نوٹس سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں جاری کیے گئے ہیں ، جس کے مطابق نجی اسکولوں کو اپنا ادارہ رہائشی سے تجارتی علاقوں میں منتقل کرنا تھا۔

آر سی بی کے حکام نے حتمی نوٹس میں خبردار کیا ہے کہ اگر احکامات پر عمل نہ کیا گیا تو قانون کی تعمیل میں اسکولوں کی عمارتوں کو توڑ دیا جائے گا اور لیز کے حقوق کو ختم کردیا جائے گا۔

مزید پڑھئے: اسکولوں کے دوبارہ کھلنے سے متعلق این سی او سی کا اہم فیصلہ

تین سال قبل بورڈ نے ویسٹریج، راجہ اکرم روڈ، ویلی روڈ، پشاور روڈ وغیرہ سمیت رہائشی علاقوں میں قائم متعدد نجی اسکولوں کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور عمارتوں کو کمرشل علاقوں میں منتقل کرنے کے لیے تمام اداروں کو نوٹسز جاری کیے گئے تھے۔

نجی اسکولوں کے مالکان نے سپریم کورٹ کے اس حکم کے خلاف اسٹے لیا تھا، جس نے کنٹونمنٹ بورڈ کو تین سال تک کارروائی کرنے سے روک دیا تھا۔

سپریم کورٹ کا اسٹے دسمبر 2021 کے اختتام پر ختم ہونے کے بعد ، آر سی بی نے  عمارتوں کو خالی کرنے کے لیے ایسے تمام اداروں کو حتمی نوٹس بھیج دیا ہے۔

آر سی بی کے ترجمان قیصر محمود نے کہا ہے کہ انہوں نے عدالت کے احکامات کو مد نظر رکھتے ہوئے حتمی نوٹسز بھجوا دیئے ہیں۔

مزید پڑھئے: اسکول آن لائن کھولے جائیں یا نہیں؟ سندھ حکومت فیصلہ کرنے میں ناکام

انہوں نے کہا کہ پشاور روڈ پر اب تک صرف ایک ادارہ تجارتی علاقے میں منتقل ہوا ہے جبکہ باقی ادارے تاحال رہائشی علاقوں میں کام کر رہے ہیں۔

ترجمان آر سی بی نے کہا کہ رہائشی علاقوں میں لیز پر اور نان لیز پر دی گئی پراپرٹیز پر قائم نجی اسکولوں کو ڈیڈ لائن کے بعد منہدم کردیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ان اداروں کی وجہ سے رہائشی علاقوں کا ماحول، سیکورٹی اور ٹریفک کا نظام متاثر ہوا ہے۔

دوسری جانب آل پرائیویٹ اسکولز مینیجمنٹ ایسوسی ایشن کے رکن ابرار احمد خان نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے نجی تعلیمی اداروں کو گذشتہ دو سال سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں 42 کنٹونمنٹ بورڈز میں سے صرف تین الگ الگ رہائشی، تجارتی اور دیگر زونوں کے ساتھ مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ تعمیر کیے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ دیگر تمام کنٹونمنٹس وہاں پہلے ہی عمارتوں کی تعمیر کے بعد قائم کر دیئے گئے ہیں ، انہوں نے مزید کہا کہ کمرشل علاقوں میں عمارتیں ملنے پر اسکولوں کو وہاں منتقل کردیا جائے گا۔

مزید پڑھئے: امتحانات ملتوی نہیں ہوں گے، حکومت کا اہم فیصلہ

انہوں نے کہا کہ ابھی تک نظرثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے اور وہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملے پر فیصلے کے لیے عدالت سے رجوع کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ نجی تعلیمی اداروں کو رہائشی علاقوں سے منتقل کرنے کا حکم بلا جواز ہے اور وہ ہر فورم پر اس کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔

(یہ خبر ایکسپریس ٹریبیون کی 30 جولائی 2021 کی اشاعت سے اخذ کی گئی ہے)

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں ©️ 2021 کیمپس گرو