‘یونیورسٹی نہیں تو فیس بھی نہیں‘ طلباء احتجاج کے لیے نکل آئے

‘یونیورسٹی نہیں تو فیس بھی نہیں‘ طلباء احتجاج کے لیے نکل آئے

‘یونیورسٹی نہیں تو فیس بھی نہیں‘ طلباء احتجاج کے لیے نکل آئے

‘یونیورسٹی نہیں تو فیس بھی نہیں‘ طلباء احتجاج کے لیے نکل آئے

آن لائن کلاسز اور سمسٹر فیس کے خلاف اسلام آباد میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے دفتر کے باہر ملک بھر کے یونیورسٹی اسٹوڈنٹس کی جانب سے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

 طلباء نے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹیز سمسٹر کی فیس معاف کردیں اور آن لائن کلاسز کا منصوبہ منسوخ کیا جائے۔ طلبہ نے بغیر امتحان کے اگلے سمسٹر میں ترقی دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ احتجاج کرنے والے طلباء نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ایچ ای سی کے خلاف نعرے درج تھے۔

مزید پڑھیں: ایچ ای سی نے ہیکرز سے نمٹنے کا منصوبہ تیار کرلیا

طلباء کے احتجاج کے باعث اسلام آباد سروس روڈ بلاک اور ٹریفک جام ہوگیا۔ پلے کارڈز پر "یونیورسٹی نہیں تو فیس بھی نہیں، ہم پروموشن چاہتے ہیں اور آن لائن کلاسز سے انکار کے نعرے درج تھے۔

طلبہ نے سیمسٹر فیس چارج کرنے پر یونیورسٹی انتظامیہ کی مذمت کی کیونکہ کوروناوائرس کے باعث انسٹی ٹیوٹ بند ہونے کی وجہ سے کلاسز منعقد نہیں ہورہی تھیں۔

اس سے قبل 22 اپریل کو ، چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) طارق بنوری نے لاک ڈاؤن میں توسیع کی صورت میں یونیورسٹیز کو سمسٹر چھوڑنے کی ہدایت کی تھی۔ اپریل میں شائع ہونے والی تفصیلی رپورٹ میں  انہوں نے کہا تھا کہ اگر جون کے اوائل تک لاک ڈاؤن کی پابندیاں ختم کردی گئیں تو یونیورسٹیز معمول کے مطابق کاروبار میں واپس آسکتی ہیں۔ لیکن اگر اس میں مزید تاخیر ہوتی ہے تو، سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہیں ہوگا کہ آپ آن لائن تعلیم کی طرف راغب ہوں یا سیمسٹر ترک کردیا جائے۔

مزیڈ پڑھیں: ایچ ای سی نے یونیورسٹیز کو سمیسٹر منسوخ کرنے کا اختیار دے دیا

دوسری جانب اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں آن لائن تعلیم کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں کیونکہ یہ سبھی کے لیے پہلا تجربہ تھا اور اس میں بہتری کے لیے وقت درکار ہوگا۔

 

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں ©️ 2021 کیمپس گرو