خیبرپختونخوا میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے اقوام متحدہ کی معاونت سے نیا پروگرام

خیبرپختونخوا میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے اقوام متحدہ کی معاونت سے نیا پروگرام

خیبرپختونخوا میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے اقوام متحدہ کی معاونت سے نیا پروگرام

یہ پروگرام ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (ای اینڈ ایس ای ڈی) خیبر پختون خوا حکومت اور اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے حال ہی میں خیبرپختونخوا کے ضم ہونے والے اضلاع میں نوجوان لڑکیوں کے لیے تعلیمی معاونت کی غرض سے شروع کیا ہے۔

گذشتہ ہفتے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق اس پائلٹ پروجیکٹ کا مقصد نوعمر لڑکیوں کے اہل خانہ کو انکم سپورٹ کی پیش کش کرنا ہے تاکہ وہ کورونا وائرس کے دوران اپنے کھانے پینے اور روز مرہ ضروریات کو پورا کرسکیں اور اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔

مزید پڑھیں: کے پی کے میں نجی اسکولوں کا حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کا اعلان

بتایا گیا ہے کہ کے پی کے، کے ساتوں ضم شدہ اضلاع کے 288 سرکاری گرلز ہائی اسکولوں میں چھٹی اور دسویں جماعت کے درمیان کی لگ بھگ 21 ہزار لڑکیاں داخل ہیں اور اس اقدام سے چھ سب ڈویژنز کو مدد ملے گی۔ اس منصوبے کا آغاز  صوبائی وزیر تعلیم اکبر ایوب خان اور ڈبلیو ایف پی پاکستان کے نمائندے اور کنٹری ڈائریکٹر کرس کائے نے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ ہم ورلڈ فوڈ پروگرام کے تعاون سے یہ پائلٹ پروجیکٹ شروع کررہے ہیں جس میں بڑے پیمانے پر صوبائی سطح پر نقد وظیفہ پروگرام کا تصور کیا جارہا ہے جہاں ہر اندراج شدہ بچے کو مالی مدد فراہم کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی ترجیح اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ وہ تمام بچے جن کی اسکول جانے کی عمر ہے مگر وہ اسکول سے باہر ہیں وہ تمام بچے اسکولوں میں پڑھ سکیں۔

اطلاعات کے مطابق نئے ضم شدہ اضلاع میں 4 سے 14 سال کی عمر کے 10 لاکھ سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور یہاں کی بڑی تعداد میں آبادی لکھنے پڑھنے کی اہل نہیں ہے اس میں خواتین کی تعداد 87 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

مزید پڑھیں: ایف بی ایس آئی ای نے انٹرمیڈیٹ کے نتائج کا اعلان کردیا - پری میڈیکل کی ٹاپ 3 پوزیشن خواتین امیدواروں نے حاصل کی

ملک بھر میں کورونا وائرس کے باعث اسکول مارچ کے مہینے میں  بند ہوگئے تھے اور اب 15 ستمبر کو ان کے دوبارہ کھلنے کی امید ہے۔ اس موقع پر ڈبلیو ایف پی پاکستان کے نمائندے اور کنٹری ڈائریکٹر کرس کائے نے کہا کہ ایک تعلیم یافتہ عورت اپنے حقوق کا ادراک رکھتی  ہے اس لیے اس کے گھریلو یا جنسی استحصال کا شکار ہونے کا امکان کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک تعلیم یافتہ ماں اپنے بچوں، اہلخانہ اور معاشرے کی خوشحالی اور فلاح و بہبود کے لیے کردار ادا کرتی ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کو اس بات پر فخر ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ تمام بچے اچھی طرح سے پرورش پارہے ہیں اور صحت مند طرززندگی اور معیاری تعلیم تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کا مقصد ہنگامی صورتحال میں لوگوں کی جان بچانا اور پائیدار ترقی کے ذریعے لاکھوں افراد کی مدد کرنا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں ©️ 2021 کیمپس گرو

کیا آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہے
ڈسکس کریں

× کلک کریں