پانچ نومبر کو کورونا کی دوسری لہر کے دوران تعلیمی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا

پانچ نومبر کو کورونا کی دوسری لہر کے دوران تعلیمی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا

پانچ نومبر کو کورونا کی دوسری لہر کے دوران تعلیمی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا

منگل کے روز وفاقی وزارت کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی وزارت تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کی وزارت نے بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کے پیش نظر مختلف تعلیمی ایجنڈوں کا جائزہ لینے کے لیے 5 نومبر کو بین الصوبائی وزرائے تعلیم کی کانفرنس (آئی پی ای ایم سی) کا اہم اجلاس طلب کیا ہے۔

پانچ نومبر کو کورونا کی دوسری لہر کے دوران تعلیمی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا

اس اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود کریں گے اور اس میں تمام صوبوں سمیت آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے وزیر تعلیم بھی شرکت کریں گے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق اجلاس کے ایجنڈے میں کورونا وائرس کی صورتحال کے حوالے سے اپ ڈیٹس کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلات کے ساتھ ساتھ تعلیمی سال کو اپریل سے اگست تک منتقل کرنے کا فیصلہ بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔

اجلاس میں آٹھویں جماعت کے بورڈ کے امتحانات بھی زیر بحث آئیں گے۔

پانچ نومبر کو کورونا کی دوسری لہر کے دوران تعلیمی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا

 دوسری جانب وزیر تعلیم نے 2 نومبر کو تعلیمی اداروں کی دوبارہ بندش کے حوالے سے پھیلائی جانے والی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تعلیمی ادارے بند نہیں کیے جائیں گے۔

 اپنی ایک ٹوئیٹ میں وزیر تعلیم نے کہا کہ طلباٗ، اساتذہ اور تدریسی عملے کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں، ہمارے لیے طلباٗ ، اساتذہ اور عملے کی صحت نہایت اہم ہے، تاہم اسکولوں اور تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔

کورونا وائرس کے پھیلنے کے بعد تقریباً چھ ماہ کی بندش کے بعد ستمبر کے وسط میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے منظوری کے بعد پاکستان میں تعلیمی ادارے دوبارہ کھولے گئے تھے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں ©️ 2021 کیمپس گرو

کیا آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہے
ڈسکس کریں

× کلک کریں