ایس او پیز پر عمل نہ کرنے والے تعلیمی اداروں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ

ایس او پیز پر عمل نہ کرنے والے تعلیمی اداروں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ

ایس او پیز پر عمل نہ کرنے والے تعلیمی اداروں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے پیر کے روز ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ اعلیٰ تعلیمی ادارے اور سینئر اسکولز کی کلاسز کا اآغاز 15 ستمبر کو ہوگا، چھٹی سے آٹھویں جماعت تک کی کلاسز 23 ستمبر کو دوبارہ کھلیں گی جبکہ 30 ​​ستمبر کو پرائمری کلاسز دوبارہ کھلیں گی۔ شفقت محمود نے کہا کہ یہ ایک مشکل فیصلہ ہے کیوں کہ اس میں بچوں کا مستقبل شامل ہے اس لیے فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا، انہوں نے مزید کہا کہ کامیابی تبھی حاصل ہوگی جب والدین اور اساتذہ اپنا کردار ادا کریں۔ وفاقی وزیر تعلیم نے احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنے والے تعلیمی اداروں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ کیا۔

نئے کورونا کیسز میں کمی کے بعد ملک بھر میں تعلیمی ادارے اگلے ہفتے یعنی 15 ستمبر سے دوبارہ کھلنا شروع ہوجائیں گے، جس کی وجہ سے امتحانات کی منسوخی اور متعدد اداروں میں آن لائن کلاسز کا انعقاد شروع ہوا تھا۔ پاکستان میں کوویڈ نائنٹین کے باعث دو لاکھ 98 ہزار 903 کیسز میں 6 ہزار تین سو پینتالیس اموات ریکارڈ کی گئیں، تاہم جون کے بعد سے اب تک یہ تعداد بتدریج کم ہوتی جارہی ہے اس دوران ملک میں  ایک ہی دن میں تقریباً ایک سو اٹھارہ اموات ریکارڈ کی گئیں جبکہ ایک ہی دن میں وائرس سے متاثر ہونے والے مریضوں کی تعداد سات ہزار ریکارڈ کی گئی۔ توار کے روز ملک میں 3 سو 94 افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے جبکہ تین افراد کی اموات ریکارڈ کی گئیں۔ گذشتہ ماہ کے اوائل میں پاکستان نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بند کیے جانے کے پانچ ماہ بعد پہلی بار جم ، سیلون، شاپنگ مالز اور ریستوران وغیرہ کھولے تھے۔۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ فیصلہ، بین الصوبائی وزرائے تعلیم کے اجلاس کے آغاز سے پہلے ہی کورونا وائرس کے پھیلنے کے علاقائی اور عالمی رجحانات کا مکمل تجزیہ کرنے کے بعد اور نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کی تحقیق کی روشنی میں لیا گیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس فیصلے کا اطلاق پیشہ ور مراکز اور دینی مدارس کے علاوہ سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کے تمام تعلیمی اداروں پر ہوگا۔ جس کی وجہ سے ان اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے لاکھوں طلبا تقریباً چھ ماہ کے وقفے کے بعد اپنی تعلیم دوبارہ شروع کرسکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے عرصے کے دوران حکومت کو کافی مشکل فیصلے کرنے پڑے، جس میں ہائر سیکنڈری تعلیم کے تقریباً چار ملین طلبا کو ان کی اگلی کلاسز میں ترقی دینے کا اقدام بھی شامل ہے۔ انہوں نے مشکل اوقات میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنے پر طلبا کے والدین سے اظہار تشکر کیا اور  اساتذہ اور اسکول انتظامیہ سے کورونا سے بچائو کے لیے ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد کے لیے حکومت سے مکمل تعاون کرنے کی اپیل کی۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے بھی پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور کہا کہ کلاسز میں طلباء کی تعداد کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ایک کلاس میں 40 طلباء ہیں تو اسے متبادل دن میں اسکول جانے والے برابر بیچز میں تقسیم کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ دوبارہ کھلنے کے بعد بھی کورونا سے بچائو کے لیے تعلیمی اداروں کی سینٹینل ٹیسٹنگ اور مستقل نگرانی کو یقینی بنایاجائے گا، باقاعدہ سینٹینل جانچ کا بنیادی مقصد کورونا وائرس کی صورتحال کی نگرانی کرنا اور ہر دو ہفتوں کے بعد اسکولوں میں اساتذہ اور بچوں کی صحت کی جانچ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کے ساتھ اسکولز کو مرحلہ وار کھولا جائے گا اور ایس او پیز پر عمل در آمد کو یقینی بنانے کے لیے تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کو دوبارہ کھولنے کے بعد تمام اسکولوں کو حکومت کی جانب سے سماجی فاصلہ برقرار رکھنے، دن میں کئی بار ہاتھ دھونے اور چہرے پر ماسک پہننا جیسے ایس او پیز کی سختی سے پیروی کرنی ہوگی اور اسکول انتظامیہ، اساتذہ اور والدین کو ان ہدایات پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔

ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ بچوں کے لیے مہنگے ماسک خریدنے کی ضرورت نہیں ہے، انہوں نے والدین کومشورہ دیا کہ اسکول جانے والے بچوں کے لیے گھر کے بنے ہوئے کپڑے کے ماسک دیئے جائیں جو دھوئے جا سکتے ہیں اور دوبارہ قابل استعمال ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بروقت اسکول بند کردینے کے اقدام نے بڑے پیمانے پر آبادی اور خاص طور پر اسکول جانے والے بچوں کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھا۔ اس خطرناک وبائی مرض سے نمٹنے کے لیے حکومت نے ایک موثر حکمت عملی اپنائی جس کے نتیجے میں ملک میں کورونا وائرس کے واقعات میں کمی واقع ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے فوری رد عمل کی وجہ سے اعداد و شمار ہر سطح پر کورونا وائرس کے کیسز میں کمی کے رجحان کو ظاہر کرتے ہیں، یہ سب ٹیم ورک اور متعلقہ تمام محکموں اور تنظیموں کے موثر کام کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔

  نئے ایس او پیز کے مطابق ، اسکول میں صبح کے وقت طلباء کی کوئی اسمبلی نہیں رکھی جائے گی اور طلبہ براہ راست اپنی کلاسوں میں جائیں گے۔ اس گائیڈ لائن میں والدین کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اسکول چھوڑنے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ پر انحصار نہ کریں۔ اس میں تعلیمی اداروں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اسکولوں میں داخلے کے دوران طلبا کی اسکریننگ کو یقینی بنائیں اور بخار ، کھانسی اور نزلہ زکام میں مبتلا طلباء کی اجازت نہ دیں۔ اسکولوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ ہر کلاس کو دو حصوں میں تقسیم کریں اور ہر سیکشن کو 4 گھنٹے کی مختلف شفٹوں میں الگ سے پڑھائیں اور وقفے یا تفریح کے وقت کو بھی شفٹوں میں دیکھا جائے گا

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں ©️ 2021 کیمپس گرو

کیا آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہے
ڈسکس کریں

× کلک کریں