پاکستان سے 75 اسکالرز پی ایچ ڈی کی تعلیم کے لیے لندن جائیں گے

پاکستان سے 75 اسکالرز پی ایچ ڈی کی تعلیم کے لیے لندن جائیں گے

پاکستان سے 75 اسکالرز پی ایچ ڈی کی تعلیم کے لیے لندن جائیں گے

پاکستان کا ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اپنے دائرہ کار میں آنے والے اداروں کو قابل اور معیاری عملہ فراہم کرنے کے لیے پوری کوشش کر رہا ہے۔

اس مقصد کے لیے ایچ ای سی اور کوئین میری یونیورسٹی آف لندن (کیو ایم یو ایل) نے اگلے پانچ سال میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے 75 ایچ ای سی اسکالرز کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔

مزید پڑھیں: بین الاقوامی آئی ٹی کمپنی کی کے پی میں ٹیک سٹی کے قیام کی تجویز

برٹش کونسل پاکستان کے ذریعے اس سلسلے میں ایک ورچوئل دستخطی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں ایچ ای سی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر شائستہ سہیل اور کیو ایم یو ایل کے وائس پرنسپل اور کیو ایم یو ایل انٹرنیشنل ایجوکیشن پروفیسر کولن گرانٹ نے معاہدے پر دستخط کیے۔

ایچ ای سی اور کیو ایم یو ایل سنہ 2016 سے پی ایچ ڈی اسکالرز کے ساتھ مالی تعاون کررہے ہیں، کیونکہ دونوں فریقوں نے ستمبر 2016 میں پہلے میمورنڈم معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت کیو ایم یو ایل میں پاکستانی پی ایچ ڈی طلباء کو اعلیٰ معیار کی تحقیقی تربیت فراہم کرنے کے لیے باہمی تعاون کی شراکت کو فروغ دیا جاسکے۔

پہلے معاہدے کے تحت 35 اسکالرز نے مختلف شعبوں میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے اپنے تعلیمی سلسلے کو آگے بڑھایا ہے۔ ان میں سے نصف اسکالرز نے انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کا انتخاب کیا جو پاکستان میں ایک انتہائی ضروری شعبہ ہے۔

اسکالرز کا ایک اور گروپ حیاتیاتی علوم (بائیولوجیکل سائنسز) کے میدان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہا ہے جو پاکستان میں حیاتیاتیات کے شعبے میں تحقیقی کلچر کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔

اسی طرح ایچ ای سی کے بہت سارے اسکالرز سوشل سائنس کے مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہمارے معاشرے میں سماجی تعمیرات کی بہتری کے لیے کردار ادا کریں گے۔

نئے معاہدے کے ایک حصے کے طور پر نئے ایم او یو میں یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ کیو ایم یو ایل سے پی ایچ ڈی کرنے کے لیے پاکستان سے مزید 75 اسکالرز کو مختلف شعبوں میں منتخب کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: پی ای سی کی ایچ ای سی سے انڈرگریجویٹ پالیسی پر عملدرآمد موخر کرنے کی درخواست

اس موقع پر ڈاکٹر شائستہ سہیل نے کیو ایم یو ایل کے تعاون اور پاکستانی اسکالرز کی معاونت کے عمل کو سراہا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دو طرفہ تعاون انسانی ترقی کے بڑے قومی مقصد کے حصول کی راہ ہموار کرے گا۔ ایک دوسرے کے بارے میں تاثرات کو بہتر بنانے کے لیے تعلیم سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں ہے۔  انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی اسکالرز خوش قسمت ہیں کہ انہیں کیو ایم یو ایل میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا کیونکہ ایسے مواقع سے تعلیمی اور ثقافتی تجربات میں اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے اس معاہدے کے ذریعے ایچ ای سی کے منتخب اسکالرز کو ٹیوشن فیس میں چھوٹ دینے کے عمل میں انتظامیہ کے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے پروفیسر گرانٹ اور برٹش کونسل کی سربراہی میں ایچ ای سی اور کیو ایم یو ایل کے درمیان تعاون کے سلسلے میں ان کی شراکت کے لیے ٹیم کی کوششوں کو بھی تسلیم کیا۔

انہوں نے ڈاکٹر حسن جلیل شاہ کی سربراہی میں ایچ ای سی کی ٹیم، مشیر برائے ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ، ایچ ای سی عائشہ اکرام، ڈائریکٹر جنرل برائے ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ ایچ ای سی اور ایچ ای سی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر برائے اوورسیز اسکالرشپس ڈاکٹر ارشد بشیر کو بھی مبارکباد پیش کی۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں ©️ 2021 کیمپس گرو

کیا آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہے
ڈسکس کریں

× کلک کریں