ٹیچرز اور والدین کے لیے آن لائن وسائل

ٹیچرز اور والدین کے لیے آن لائن وسائل

ٹیچرز اور والدین کے لیے آن لائن وسائل

پاکستان سمیت دنیا بھر میں فروری میں بند ہونے والے اسکولوں کی بندش کو چار ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں اساتذہ کے درمیان غیر یقینی صورتحال کی فضاء پیدا ہوئی ہے، ان چیلینجوں کے ساتھ ساتھ کہ ان کے تدریسی طریقوں اور آلات کو کس طرح آگے بڑھانا ہے، یہ ایک تشویشناک امر بن گیا ہے۔ اگرچہ یہ ایک ناگوار کام معلوم ہوسکتا ہے، لیکن عالمی سطح پر یہ تحقیق کی گئی ہے کہ اساتذہ کیسے ڈیجیٹل ورک پر سیکھنے کے عمل میں مدد فراہم کرتے اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ طلباء کو حاصل ہونے والی تعلیم کا معیار برقرار رہے۔

یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ جب آپ سیکھنے کی بات کرتے ہیں تو آپ ہر ایک کے لیے ایک ہی جیسے یکساں طریقہ کار کا انتخاب نہیں کرسکتے۔

یہاں متنوع گروپس ہیں جن کے پاس اپنے الگ الگ تحفظات اور ترجیحات ہیں۔

ہر گروپ کے لیے استعمال ہونے والے وسائل اور آلات بھی سیاق و سباق پر انحصار کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، مختلف طریقوں سے قابل طالب علموں کے لیے انوکھے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں جو شاید اس ٹیکنالوجی کو نہیں سمجھتے ہوں گے یا انہیں انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

تاہم، اساتذہ کو اپنے طلبا کی تعلیم جاری رکھنے میں رہنمائی کرنے کے لیے بہت سے آن لائن وسائل دستیاب ہیں۔

کیمپس گرو میں ہم نے کچھ ضروری آن لائن وسائل اور آلات کی فہرست تیار کی ہے جو اساتذہ کلاس روم میں جاتے ہوئے استعمال کرسکتے ہیں لیکن ویب اور ڈیجیٹل تعلیم کے مختلف دور میں۔

ترجیحات کی فہرست:

اساتذہ کے لیے سب سے اہم مشورہ یہ ہے کہ ایک قدم پیچھے ہٹیں اور اس کے بارے میں سوچیں کہ سب سے زیادہ اہم بات کیا ہے، جس سے آپ طلباء اور والدین دونوں کے ساتھ رابطے کے ایک فعال نیٹ ورک کی فہرست کو ترجیح دیں گے۔

یہاں ہم مارک اینڈرسن، آئی سی ٹی ایوینجلسٹ کے ذریعے ایک ابتدائی وسائل شیئر کر رہے ہیں، جس نے اس مفید انفوگرافک کو تخلیق کیا ہے تاکہ اساتذہ کو پہلے اور حتمی اقدامات پر آنے اور غور کرنے میں مدد ملے جب کہ اسکولوں کی بندش جاری رہتی ہے۔

یہ انفوگرافک اس وقت کے دوران اہم فیصلے کرنے میں آپ کی رہنمائی کرے گا۔ آن لائن ریموٹ تعلیم کی تیاری کے لیے آپ کے اقدامات کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے ہم اساتذہ کو اس انفوگرافک معلومات کو استعمال کرنے کی انتہائی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ذرا سا پیچھے ہٹیں اور اپنے پہلے قدم کے بارے میں سوچیں۔ مزید یہ کہ ہم آپ کو مشورہ دیتے ہیں کہ آئی ایس سی ڈیجیٹل اسٹریٹیجی گروپ اور ایڈٹیک یوکے کے ڈیولپنگ ڈیجیٹل لیڈرشپ بلیٹن پر بھی غور کریں  جس میں بندش کے دوران اسکولوں کے لیے رہنمائی اور زیادہ عملی اقدامات شامل ہیں۔

ڈیلیوری اینڈ ٹیکنالوجی:

آپ کا اسکول بند ہے اور توقع کرتا ہے کہ آپ ڈیجیٹل کلاس روم میں جانے کے لیے ایک حکمت عملی لے کر آئیں گے۔ اس چیلنجنگ صورتحال سے نمٹنے کے لیے بہت سارے طریقے سامنے آچکے ہیں۔

سب سے پہلے آپ کو ٹولز کا پتہ ہونا چاہیے۔ بہت سے اسکول مائیکروسافٹ سسٹم جیسے آفس 365 یا گوگل ایپس سے کام لے رہے ہیں یا جیسے گوگل کلاس روم کا استعمال کررہے ہیں۔

اپنے تعلیمی سیشن کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے دونوں پلیٹ فارم تعلیمی ترتیب کے لیے بالکل مفت دستیاب ہیں اور آسانی اور سہولت سے ڈاؤن لوڈ یا سیٹ اپ ہوسکتے ہیں۔

ہم تجویز کرتے ہیں کہ اگر آپ کے اسکول پہلے سے ہی یہ سسٹم استعمال کر رہے تھے تو پھر الجھن سے بچنے کے لیے نئی ٹیکنالوجی میں تیزی لانے کی ضرورت نہیں ہے۔

جب بے شمار چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو چیزوں کو آسان رکھنا اور ہینڈ آن ٹولز کا بہترین استعمال کرنا ایک آئیڈیا ہے جو یقیناً کام کرے گا۔

بیشتر تعلیمی محققین کا مشورہ ہے کہ اسکول اپنے دوسرے مرحلے میں طلبا کے لیے ٹیکنالوجی کے ذریعے آن لائن سیکھنے کے ٹولز اپنائیں۔

پہلے مرحلے میں، تاہم اسکولوں کو والدین کے ساتھ موزوں چینل اور وسائل پر بات چیت کرنے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ دوسرے مرحلے آن لائن سیکھنے کے عمل کی طرف جانا آسان ہوجائے۔

طالب علموں کی کارکردگی کا جائزہ:

اساتذہ کے لیے ایک سب سے بڑا چیلنج طلبا کی کارکردگی اور دور سے ہونے والی پیشرفت کی جانچ اور تجزیہ کرنا ہے۔ لیکن یہاں ایک خوشخبری ہے۔ یہاں آن لائن وسائل کا ایک پول ہے جو بالکل مفت ہے اور مختلف تحقیقی تنظیموں کے ذریعے سے دستیاب ہے۔ ان میں برٹش کونسل اور بی بی سی بائٹ سائز شامل ہیں، جو طلباء کے گروپوں کے لیے باہمی تعاون کی سرگرمیاں پیش کرتے ہیں، تاکہ ان کو متحرک رکھنے میں مدد ملے جبکہ مختلف انٹرایکٹو ٹولز کا استعمال کرکے اپنے علمی علم کی جانچ اور تجزیہ بھی کریں۔

اس کے علاوہ، ریاضی اور دیگر خواندگی کے کھیلوں کے لیے کچھ عمدہ آن لائن پلیٹ فارم بھی موجود ہیں جیسے چار سے گیارہ سال کی عمر کے طلباء کے لئے سم ڈوگ ایک بہترین پلیٹ فارم ہے۔

اساتذہ اپنے طلباء کو ہوم ورک  دینے اور پلیٹ فارم کے ذریعے طلباء کی پیشرفت کو فوری طور پر جانچنے کے لیے سم ڈوگ کا استعمال کرسکتے ہیں۔

آزادانہ تعلیم کے لیے نوجوان طلباء اور ان کے والدین کے لیے کچھ عمدہ مقامات ہیں، جیسے پرائمری ہوم ورک ہیلپ وغیرہ۔

اعلیٰ گریڈ کے طالب علموں کے لیے سینیکا لرننگ ایک ایسی ویب سائٹ ہے جو اپنے جی سی ایس ای یا اے لیول لینے والے طلبا کو مفت مواد فراہم کرتی ہے۔

مائیکروسافٹ فارم اور گوگل فارم بھی کوئز اور روزانہ کے ٹیسٹ بنا کر ان کا اندازہ کرنے کے لیے، اعلیٰ درجات کے اساتذہ کے ذریعے استعمال کیے جانے والے بہترین ٹولز میں سے ایک ہیں۔

ایڈ فیوچرسٹس ماہرین اساتذہ کے لیے باقاعدگی سے اپنے ٹوئیٹر پیج پر با ضابطہ معلوماتی ویڈیوز شائع کرتے ہیں، جس کی مدد سے وہ یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ صرف گوگل ایپس کے ذریعے بھی طالب علموں کے لیے انٹرایکٹو سیشن کیسے تیار کیے جاسکتے ہیں۔

نوجوان طلباء اور آن لائن مواد کا تحفظ:

اگرچہ موجودہ صورتحال کے دوران بہت سے لوگوں کے لیے کلاس روم میں جا کر سیکھنا ایک ناممکن کام لگتا ہے لیکن زیادہ تر جونیئر گریڈ سیکھنے کے مواد کی آن لائن ستیابی تک رسائی حاصل کریں گے۔ لہٰذا، اساتذہ اور والدین دونوں کے لیے سب سے بڑی ترجیحات میں سے ایک ہے کہ وہ بچوں کو محفوظ رکھیں۔

دبئی سے تعلق رکھنے والے ایک نائب ہیڈ ٹیچر نے ایک انفوگرافک تیار کیا ہے جس میں حفاظت کے حوالے سے کچھ ضروری سوالات ہیں جو اسکولوں کو دور دراز کے سیکھنے کے طریقوں کی طرف بڑھتے ہوئے پوچھنے چاہئیں۔ دوسرا وسیلہ بچوں کے لیے آن لائن حفاظتی نکات ہیں ، جو طلباء کی حفاظت کے معاملے میں والدین اور اساتذہ دونوں کے لیے معلوماتی رہنما ہیں۔

اس سے اساتذہ کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی ہوتی ہے کہ وہ والدین کے ساتھ مشترکہ رضامندی کے فارم تشکیل دیں، خاص طور پر چھوٹے اسکول کے طلباء کی صورت میں۔

آف لائن آپشنز:

اگرچہ پاکستان میں طلبہ کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جن کے پاس انٹرنیٹ کنکشن تک رسائی نہیں ہے، اساتذہ کو آف لائن آپشنز کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے جیسے ضرورت مند افراد کی امداد کی پیش کش اور تکنیکی گیجیٹ ایوارڈ جو طلبا افورڈ نہیں کرسکتے ہیں اور قرضوں کی فراہمی وغیرہ۔

اس عمل کے لیے نجی اور سرکاری اسکول فیڈریشنز کو ایک سپورٹ گروپ بنانا چاہیے۔ مزید یہ کہ نفسیاتی مشیروں کا مشورہ ہے کہ لمبی آن لائن کلاسز نہ تو متحرک ہوسکتی ہیں اور نہ ہی صحتمند۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ 3 سے 4 سال کی عمر کے بچوں کو ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ صرف ایک اسکرین کے سامنے گزارنا چاہیے۔

پوبل ایک اور دلچسپ اور کارآمد پلیٹ فارم ہے جس نے نوجوان سامعین کے لئے نان اسکرین سرگرمیوں کے لیے 25 آئیڈیاز بنائے ہیں جو گھر پر رہتے ہوئے آف اسکرین بھی استعمال ہوسکتے ہیں۔

والدین کے لیے وسائل اور آلات:

والدین کے لیے بھی یہ صورتحال اتنی ہی مشکل ہے جتنی اساتذہ کے لیے۔

بہت سارے مفید آلات والدین کو اس کورونا وائرس کی صورتحال کے دوران غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے میں مدد کرسکتے ہیں۔

والدین کے لیے ایک اور عمدہ ذریعہ ٹوئنکل ہے جسے ایک آن لائن تعلیمی پبلشنگ ہاؤس نے جونیئر جماعتوں کے طلباء کے والدین کے لیے اسکول بندش کے دوران ہوم لرننگ کے حوالے سے پیک تیار کیا ہے تاکہ وہ اسکول کی بندش کے دوران بچوں کی تعلیم کو برقرار رکھنے میں ان کی مدد کرسکیں۔

ٹوئنکل، والدین کے لیے ایک پیرنٹس حب بھی فراہم کرتا ہے جو والدین کو اپنے بچوں کے سیکھنے کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے کئی نصابوں کا احاطہ کرتا ہے۔

ہم امید کرتے ہیں کہ مذکورہ بالا وسائل اور آلات اساتذہ اور والدین کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔ بیسٹ آف لک۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں ©️ 2021 کیمپس گرو

کیا آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہے
ڈسکس کریں

× کلک کریں