سکھر کی 187 سال پرانی جنرل لائبریری تباہی کے دہانے پر

سکھر کی 187 سال پرانی جنرل لائبریری تباہی کے دہانے پر

سکھر کی 187 سال پرانی جنرل لائبریری تباہی کے دہانے پر

سکھر میں واقع جنرل لائبریری کا شمار ملک کی قدیم ترین لائبریریوں میں ہوتا ہے، لیکن آج یہ لائبریری زبوں حالی کا شکار ہے۔

اسے 1835 میں انڈس فلوٹیلا نامی جہاز راں کمپنی نے اپنے ملازمین کے لیے ’اسٹیشن لائبریری‘ کے نام سے قائم کیا تھا، بعد میں 1867 میں اسے جنرل لائبریری کا نام دے کر عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ اس کی باقاعدہ رجسٹریشن 1893میں بمبئی میں کروائی گئی۔

سندھ کی پہلی قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر دیوان بھوج سنگھ پنچوانی 1905 سے 1935تک اس لائبریری کے سیکریٹری رہے۔ ان کی تصویر اب بھی لائبریری میں موجود ہے۔

لائبریری کے انچارج اسرار احمد خان جو 1985 سے اعزازی طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، کہتے ہیں کہ لائبریری میں ادب، مذہب، تاریخ، اسلام، تجارت، معاشیات، فلسفہ، عمرانیات،  قانون، اقبالیات، سوانح عمری اور شاعری سمیت 80 ہزار سے زائد کتب کے علاوہ کئی سو سال پرانی نایاب کتابیں اور قلمی نسخے موجود ہیں۔

ملک کی نامور شخصیات مثلاً سابق گورنر حکیم محمد سعید، سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین، جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد، معروف قانون دان ایس ایم ظفر اور شریف الدین پیرزادہ سمیت پاکستان بھر میں سیکڑوں افراد اس لائبریری کے دائمی رکن ہیں۔ اس کے علاوہ سکھر کی معروف شخصیات نے بھی اس لائبریری سے استفادہ حاصل کیا۔ حکیم محمد سعید جب بھی سکھر آئے انہوں نے اس لائبریری کا دورہ ضرور کیا

اسرار خان نے بتایا کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد اس عمارت کے ساتھ تعلقہ میونسپل آفس کو شرپسندوں نے آگ لگادی تو اس وقت اس لائبریری کو اس کے چند ممبران اور عملے نے منت سماجت کر کے بچایا۔

 

انہوں نے بتایا کہ لائبریری ایک خود مختار ادارے کے طور پر کام کر رہی ہے، مگر گذشتہ کافی عرصے سے شدید مالی مشکلات کا شکار ہے۔

 نئے ممبران نہ بننے، حکومتی سطح پر سرپرستی نہ ہونے اور عطیات کی کمی سے اس کے انتظامات چلانے میں بہت دشواری کا سامنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ لائبریری کا فرنیچر بہت خستہ ہوچکا ہے جس کی وجہ سے سیکڑوں قمیتی کتابیں خراب ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کتب بینی کے رجحان میں کمی سے لائبریریوں کی بقا کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ ایسے میں حکومتی اداروں اور علم دوست افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ سکھر کی لائبریری کی حفاظت کے لیے اقدامات کریں۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں ©️ 2021 کیمپس گرو