مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں بدعنوانی، 50 ملین روپے کی سرکاری گرانٹ چوری

مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں بدعنوانی، 50 ملین روپے کی سرکاری گرانٹ چوری

مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں بدعنوانی، 50 ملین روپے کی سرکاری گرانٹ چوری

ایکپریس میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک کی معروف مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (ایم یو ای ٹی) جام شورو میں سابق ملازم کی مالی بدعنوانی کا معاملہ حال ہی میں منظرعام پر آیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس ملازم نے 2017 میں اپنے بینک اکاؤنٹ میں 50 ملین روپے کی سرکاری گرانٹ منتقل کی تھی۔ اس کے علاوہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس ملازم نے چوری شدہ رقم سے کاروبار شروع کیا۔

مزید پڑھیں: کیمبرج آئی جی سی ایس ای کے نتائج کا اعلان آج 12 بجے کیا جائے گا

ایکسپریس میڈیا رپورٹس کے مطابق ، یونیورسٹی کے محکمہ خزانہ کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر وقاص علی چنہ خیرپور کے ایم یو ای ٹی کے شہید ذوالفقار علی بھٹو کیمپس میں تعینات تھے جن کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ بدعنوانی میں ملوث تھے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ میں شامل دیگر  افراد بھی اس جرم میں شریک ہیں۔ قانون کے مطابق یونیورسٹی کے اکاؤنٹ سے رقم کی منتقلی یا رقم نکالنے کے لیے سرکاری فنڈز کو متعلقہ اتھارٹی سے منظوری لینی پڑتی ہے۔ تاہم جب معاملہ منظرعام پر آیا یونیورسٹی انتظامیہ نے محکمہ خزانہ کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر وقاص علی چنہ کو اس دھوکہ دہی کا ذمہ دار ٹھہرایا اور صوبائی حکومت سے معاملے کی تحقیقات کی اپیل کی۔ اسی دوران یونیورسٹیز کے محکمہ انسداد بدعنوانی کو ایک خط لکھ کر مطالبہ کیا گیا کہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کی جائے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ مہران یونیورسٹی جام شورو کے وائس چانسلر پروفیسر محمد اسلم عقیلی نے یونیورسٹیز اور بورڈ کے محکموں کو 30 جون کو ایک خط کے ذریعے اس معاملے کے بارے میں مشورہ دیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ محکمہ خزانہ کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر وقاص چنہ نے ایم یو ای ٹی کے خیرپور کیمپس کے اکاؤنٹس سے یہ رقم اپنے نجی اکاؤنٹ میں منتقل کی۔

مزید پڑھیں: نجی اسکول کی 75 فیصد تنخواہوں میں کٹوتی، ٹوئٹر پر تہلکا

اگرچہ یہ واقعہ 2017 میں پیش آیا تھا لیکن اس کے ساتھ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اسی عرصے کے دوران حکومت سندھ نے وقاص علی چنہ کو شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ اسکل ڈیولپمنٹ خیرپور میں ڈائریکٹر فنانس کے طور پر بھی تعینات کیا تھا۔ دوسری جانب سکھر میں واقع بیگم نصرت بھٹو ویمن یونیورسٹی میں بطور ڈائریکٹر فنانس انچارج بھی انہیں تعینات کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: سنیما گھروں کو دوبارہ کھولا جا رہا ہے مگر اسکولوں کو نہیں، جس سے حکومت کی ترجیحات واضح ہیں، اے پی پی ایس ایم اے

جبکہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت سندھ نے وقاص علی چنہ کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی کیونکہ اس معاملے کی تاحال تحقیقات جاری ہے۔ جب اس معاملے پر تبصرہ کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا تو ایم یو ای ٹی جامشورو کے وی سی نے بتایا کہ یونیورسٹی نے مذکورہ افسر کے خلاف محکمانہ انکوائری کی ہے۔ وائس چانسلر نے کہا کہ مالی بدعنوانی کے معاملے کی تحقیقات کے بعد یونیورسٹی انتظامییہ نے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر برائے خزانہ وقاص چنہ کے خلاف قانونی طور پر ایف آئی آر درج کی ہے۔ اس کے علاوہ ہم 50 ملین روپے کی غبن شدہ رقم سے 10 ملین روپے کی وصولی میں بھی کامیاب رہے ہیں۔ وی سی نے کہا کہ  وقاص چنہ نے ایک بیان بھی جاری کیا ہے جس میں انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے۔ جب یہ پوچھا گیا کہ کیا یونیورسٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر برائے خزانہ کو وائس چانسلر کی منظوری کے بغیر یونیورسٹی کے سرکاری کھاتوں سے اتنی بڑی رقم اپنے اکائونٹ میں منتقل کرنے کا اختیار حاصل ہے تو پروفیسر عقیلی نے کہا کہ یہ واقعہ مہران یونیورسٹی کے خیرپور کیمپس کے پرو وائس چانسلر غلام سرور کے دور میں پیش آیا۔ اس وقت ڈاکٹر عبد القدیر راجپوت یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے۔ مختلف کیمپسز کے پی وی سیز کو مالی معاملات میں وائس چانسلر کی طرح کے اختیارات حاصل تھے جو پروفیسر عقیلی کے وائس چانسلر کا عہدہ سنبھالنے تک جاری رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس معاملے کی شفاف تصویر حاصل کرنے کے لیے بینک سے مزید تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں ©️ 2021 کیمپس گرو

کیا آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہے
ڈسکس کریں

× کلک کریں