پاکستان میں 25 لاکھ بے گھر بچے حکومت کی توجہ اور امداد کے منتظر

پاکستان میں 25 لاکھ بے گھر بچے حکومت کی توجہ اور امداد کے منتظر

پاکستان میں 25 لاکھ بے گھر بچے حکومت کی توجہ اور امداد کے منتظر

سوسائٹی فار پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دا چائلڈ (ایس پی اے آر سی) نے پیر کے روز 'ایوری چائلڈ ڈیزروز ایوری رائٹ' کے نام سے انٹرنیشنل اسٹریٹ چلڈرن ڈے منایا اس سرگرمی کا مقصد پاکستان میں 20 لاکھ سے زائد اسٹریٹ چلڈرن کی آواز بننا تھا تاکہ  ان کے بے یارومددگار حالات کے بارے میں معاشرے میں آگاہی پیدا کی جاسکے۔

مزید پڑھیں: وزیرتعلیم سندھ سعید غنی کو وزارت تعلیم کےعہدے سے ہٹائےجانےکی بازگشت

اس دن کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، اسپارک کے پروگرام مینجر خلیل احمد ڈوگر نے کہا کہ عالمی سطح پر جاری تنازعات کی وجہ سے تقریبا 28 ملین بچے بے گھر ہیں جو مہاجر آبادی یعنی ریفیوجی پاپولیشن کا نصف حصہ ہیں۔

بچوں کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کنونشن کے باوجود بین الاقوامی سطح پر اور قومی سطح پر اسٹریٹ چلڈرن کی حالت زار کو دور کرنے میں خاطر خواہ کوششوں اور اقدامات کی کافی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پچیس لاکھ سے زیادہ اسٹریٹ چلڈرن کو تاریک مستقبل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تقریباً نصف بچے یا 56 فیصد گھریلو تشدد کی وجہ سے گھر سے بھاگ جاتے ہیں، 22 فیصد اسکول یا دیگر تعلیمی سہولیات سے محروم ہیں اور22 فیصد اپنے خاندان کی کفالت کے لیے کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اسٹریٹ چلڈرن سے متعلق اقوام متحدہ کے جنرل معاہدے کے چار اقدامات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان چار اقدامات میں مساوات کا عہد، ہر بچے کی حفاظت، خدمات تک رسائی کی فراہمی اور خصوصی حل تخلیق کرنا شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پالیسیوں کو مرتب کرنے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کثیر الجہتی ادارہ جاتی اور بنیادی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر چائلڈ رائٹس کلب کے نمائندوں نے صحافیوں سے انٹرایکٹو گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ تمام بچوں کے خصوصی حقوق ہیں جنہیں قبول کرنے اور ان کا احترام کرنے کی ضرورت ہے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ والدین کے علاوہ، تمام حکومتوں اور ریاستی اداروں کا فرض ہے کہ وہ بچوں کے لیے دوستانہ ماحول پیدا کریں اور بچوں کے حقوق کو فروغ دیں تاکہ بنی نوع انسان کے روشن مستقبل کو یقینی بنایا جاسکے۔

مزید پڑھیں: پاکستانی گیمر ارسلان ایش نے انٹرنیشنل ٹیکن 7 مقابلہ جیت لیا

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے 12 نومبر 1990 کو بچوں کے حقوق سے متعلق کنونشن کی توثیق کی تھی اور یکے بعد دیگرے حکومتوں نے پاکستانی بچوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے عزم کی تجدید کی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ان بچوں کے لیے سوسائٹی میں اب بھی بہت بڑے چیلنجز باقی ہیں، جس میں بچوں کی تعلیم، صحت، غذائی ضروریات، نوعمر بچوں کے لیے انصاف، تشدد، نظرانداز ہونا، مزدوری اور شادی سے متعلق قوانین پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں ©️ 2021 کیمپس گرو

کیا آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہے
ڈسکس کریں

× کلک کریں