وبائی بیماری سے اسکول بند، کینیا میں بچے سولر ریڈیو سے سیکھنے لگے

وبائی بیماری سے اسکول بند، کینیا میں بچے سولر ریڈیو سے سیکھنے لگے

وبائی بیماری سے اسکول بند، کینیا میں بچے سولر ریڈیو سے سیکھنے لگے

رائٹرز

تانا ریور کاؤنٹی، جنوب مشرقی کینیا میں واقع ایک دور دراز کا علاقہ ہے جہاں شاگردوں کا ایک گروپ نے اپنے استاد کے قریب بیٹھ کر شمسی توانائی سے چلنے والے ریڈیو سے آنے والے سواحلی زبان کے سبق کو سنتے ہی نوٹس کو تحریر کرتے ہوئے اپنے استاد کے گرد ایک حلقہ تشکیل دیا۔

کینیا کے دارالحکومت، نیروبی کے مشرق میں ڈیڈا ایڈی پرائمری اسکول کے بچے جس ریڈیو کے گرد جمع ہوئے وہ نیم بنجر خطے کے سیکڑوں گھرانوں میں مفت تقسیم کیا جانے والا واحد ریڈیو تھا۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے اس علاقے میں اسکول بند کردیئے گئے ہیں، جبکہ ریڈیو کے ذریعہ گھر تک انٹرنیٹ کی رسائی یا بجلی کے بغیر بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے جس سے بچوں کو وبائی امراض کے بعد تعلیم حاصل کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

کینیا کی ایک غیر سرکاری تنظیم، زیزی افریک فاؤنڈیشن کے تعاون سے، جو تعلیم کی پالیسی چلانے کے لیے تحقیق تیار کرتی ہے، شمسی توانائی سے چلنے والے ریڈیو بھی فراہم کرتی ہے جو گھریلو روشنی کے لیے بلب روشن کرنے اور فون چارجنگ کے سلسلے میں بہت کام آتے ہیں۔

جب مارچ کے مہینے میں کینیا میں وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے اسکول بند ہوگئے تو، زیزی افریک نے تانا ڈیلٹا سب کاؤنٹی میں ایک سروے کیا اور بتایا کہ صرف پانچ گھرانوں میں سے ایک ریڈیو کا مالک تھا اور صرف 18 فیصد لوگوں کو بجلی تک رسائی حاصل تھی۔

فاؤنڈیشن کے تیز رفتار سیکھنے پروگرام کی رہنمائی کرنے والی سارہ روٹو نے کہا کہ ہمیں معلوم تھا کہ اس خلا کو ختم کرنے کے لیے فوری طور پر کچھ کرنا ہوگا۔

مئی میں اس منصوبے کے آغاز کے بعد سے اس فاؤنڈیشن نے دریائے تانا اور ترکانا کاؤنٹیوں میں 1،660 شمسی توانائی سے چلنے والے ریڈیو تقسیم کیے ہیں۔

روتو نے بتایا کہ دریائے تانا کے اطراف ریڈیو تقسیم کرنے کے مرحلے پر ابھی تک 18 ملین سے زیادہ کینیائی شلنگ (165،000 ڈالرز) لاگت آئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شمسی توانائی سے چلنے والے ریڈیو کو مکمل چارج ہونے میں ایک دن لگتا ہے اور اس کے بعد یہ بیٹری تین دن تک چل سکتی ہے۔

تانا ریور کاؤنٹی کے ڈائریکٹر آف ایجوکیشن، جیمز نیاگا نے کہا کہ وبائی مرض کے دوران اسکولوں میں ٹیبلٹس فراہم کرنے کے حکومتی اقدام کے بعد یہ عمل بہت کم مددگار ثابت ہوا۔

سن 2016 میں شروع کیے گئے اپنے ڈیجیٹل لرننگ پراجیکٹ کے ایک مرحلے میں حکومت نے کینیا کے پرائمری اسکولوں میں تقریبا 1.2 ملین ٹیبلٹس تقسیم کیے، لیکن جب اس سال کے شروع میں اسکولوں نے اپنے دروازے بند کردیئے تو یہ ٹیبلٹس اسکولوں میں ہی بند ہوگئے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں پڑھانے والے زیادہ تر اساتذہ مقامی نہیں ہوتے ہیں، لہٰذا جب اسکول بند ہوئے تو اساتذہ چابیاں لے کر چلے گئے، جیمز نیاگا نے کہا کہ شاگردوں کو فراہم کیے جانے والے یہ ٹیبلٹس انہیں گھر لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریڈیو پراجیکٹ اس چیلنج کو دور کرنے میں بہت دیرپا اور مددگار ثابت ہو گا۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں ©️ 2021 کیمپس گرو

کیا آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہے
ڈسکس کریں

× کلک کریں