مشکل اوقات میں طلبا کی فلاح و بہبود پر توجہ دینا

مشکل اوقات میں طلبا کی فلاح و بہبود پر توجہ دینا

مشکل اوقات میں طلبا کی فلاح و بہبود پر توجہ دینا

دنیا بھر میں تعلیمی اداروں کی غیر یقینی بندش اور اس میں کی جانے والی توسیع کے بعد ملک بھر میں اسکول اور تعلیمی ادارے دوبارہ کھل رہے ہیں جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔

کچھ لوگوں کے لیے تدریسی اداروں کو دوبارہ کھولنے کا یہ عمل ورچوئل انداز میں سیکھنے کے عمل کو جاری رکھے گا اور کچھ کے لیے یہ ایک ملا جلا نقطہ نظر ہوگا۔ لیکن ایک امر یقینی طور پر موجود ہے کہ یہ سب کچھ معمول کی سرگرمیوں کی طرح نہیں ہوگا۔ دوسری جانب محققین کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

محققین کا کہنا ہے کہ آج کے بچوں کے لیے بچپن یا اوائل عمری میں ہونے والے منفی تجربات پہلے کی نسبت کہیں زیادہ عام ہوگئے ہیں جو کہ ایک تشویشناک امر ہے۔

اگر ہم کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی مشترکہ پریشانی اور طلبا پر ثبت ہونے والے اس کے تکلیف دہ اثرات کو شامل کرتے ہیں تو اس صورت میں یہ بہت ضروری ہے کہ طلباء کو اس مہینے میں تعلیمی اداروں میں ان کا خیرمقدم کرتے ہوئے مناسب توجہ اور نفسیاتی شفایابی فراہم کی جائے۔

رابطے پر توجہ دیں:

محققین کا مشورہ ہے کہ جب آپ کا رابطہ معدومی کا شکار رہتا ہے تو اس کا نتیجہ اکثر پریشانی اور کسی بیماری کی صورت میں نکلتا ہے۔ ان ذہنی اور نفسیاتی عارضوں کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے فعال سماجی روابط کیونکہ اسے انسان کی ضروریات میں شامل ایک ضروری امر سمجھا جاتا ہے۔ اس وقت اساتذہ اپنے طلباء کے طلباء کے ساتھ معاشرتی رابطے کو معنی خیز انداز میں بڑھا سکتے ہیں، جو خاص طور پر آج کے اس کڑے وقت میں بہت اہم ہے۔

طالب علموں کو ذہن سازی اور معاشرتی اور نفسیاتی تعلیم کے مرکز پر رکھیں۔

اساتذہ کو اپنے طلبا کو یہ بتانے کے بجائے کہ وہ کیا کریں اور کیسے کریں، اساتذہ کو طلباء کو نظریات کی آبیاری کرنے، ان کی فطری صلاحیتوں اور تجربات پر کام کرنے کے لیے ایک جگہ دینی چاہیے جس سے وہ ان کو فائدہ مند سمجھیں۔ اس عملی نقطہ نظر سے وہ اپنے بہترین امور سرانجام دینے کے قابل ہوسکیں گے اور انہیں اپنے آپ کو معاشرے کے بہترین افراد بنانے میں مدد ملے گی۔

اس وقت اساتذہ اپنے طلباء کے ساتھ اس بارے میں ذہن سازی کرنا چاہیں گے کہ وہ مشکل وقت میں کس طرح مدد حاصل کرتے ہیں۔ اس بارے میں بات چیت کا آغاز کریں کہ وہ اس امر پر گفتگو کرتے ہیں کہ کیا چیز انہیں چلائے رکھنے اور آگے بڑھانے کا باعث ہے اور کیا چیز ان کی نشوونما میں رکاوٹ بنتی ہے۔

طلباء کو دعوت دیں کہ وہ اپنے نظریات اور تجربات کا اشتراک کریں اور ایسے طرز عمل کو شروع کریں جس سے ان کے لیے کام ہوا ہے۔ کلاس روم میں دلچسپ مشمولات کو مربوط کرنے کے لیے اساتذہ طلباء سے ایسی موسیقی کے بارے میں پوچھ سکتے ہیں جس سے ان کو قرنطینہ کے عرصے میں پُرسکون رہنے میں مدد ملی ہو۔

طلبا کو موسیقی یا دلچسپ فلموں اور سیریز کا اشتراک کرنے کی دعوت دینا جس سے انہیں لاک ڈاؤن کے دوران پُرسکون، سمجھدار اور نفسیاتی طور پر فعال رہنے میں مدد ملی ہو، یہ نیا سیشن شروع کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہوگا۔

گہری سانس لیں:

نوجوان طلبا کے لیے روزانہ سانس لینے کی مشق کو دوہرانے کا عمل انہیں پرسکون رہنے، خود کو منظم کرنے اور تناؤ اور اضطراب کو سنبھالنے میں مدد کرے گی۔ اس سے انہیں اسکولوں کی بندش کی وجہ سے پریشانی کے سامان کو ختم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔  

مثبت خود کلامی:

طلباء کو ان کے بارے میں بات کرنے دیں اور ان کی مثبت بصیرت کے بارے میں کچھ گفتگو کریں، جس سے انہیں ان منفی پیغامات کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی جو طلباء کو اپنے اردگرد شعوری یا لاشعوری طور پر محسوس ہو سکتے ہیں۔ اسٹوڈنٹس میں شعوری یا لاشعوری طور پر پائے جانے والے منفی جذبات ان کی حوصلہ افزائی، اعتماد کی کمی اور فعالیت کی کمی کے بارے میں ہوسکتے ہیں جس سے وہ خود ترسی کا شکار ہوسکتے ہیں۔ ا سلیے اپنے طلباٗ کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ خود سے بات چیت کرنے کے دوران مثبت چیزوں پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں اور منفی خیالات سے صرفِ نظر کریں۔ 

فعالیت کی حوصلہ افزائی کریں:

دنیا بھر کو متاثر کرنے والے وبائی مرض (کوروناوائرس) کی وجہ سے بہت سارے سماجی، صحت سے متعلق اور ماحولیاتی مسائل بے نقاب ہوگئے ہیں۔ یہی وہ مناسب وقت ہے کہ اپنے طلبا کو ان مسائل کے بارے میں آواز اٹھانے یا لکھنے کے عمل میں شامل کریں۔ یہ ضروری ہے کہ ہر طالب علم کو انفرادی طور پر معاشرے کے بارے میں اپنی ذمہ داری کا احساس دلایا جائے۔

اپنے طلباء کو ایسے لوگوں کے بارے میں کہانیاں سنانا جنہوں نے معاشرے میں انفراد قائم کیا اور کسی ناروا روایات یا سکول کے خلاف ان کی مزاحمت کی کہانیاں جنہوں نے ان لوگوں کو سراہے جانے کے قابل بنایا اور عالمی برادری کے ایک حصے کے طور پر ان کے کردار پر کام کرنے کے لیے اعتماد فراہم کریں گی۔

طلبا کو ہمیشہ ایسی نا انصافیوں کے بارے میں بات کرنا آزادانہ اور ایک طرح سے ہیجان خیز محسوس ہوتا ہے جو وہ اپنے ارد گرد محسوس کرتے ہیں۔ اساتذہ کو اپنے اسٹوڈنٹس کو ان موضوعات و مسائل کے بارے میں بات کرنے کا پلیٹ فارم اور آزادی دینی چاہیے تاکہ وہ کھل کر ان معاملات پر اپنی رائے کا اظہارکرسکیں۔

آپ کے لیے نئے تعلیمی سیشن کی مبارکباد!

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں ©️ 2021 کیمپس گرو

کیا آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہے
ڈسکس کریں

× کلک کریں