باہر جا کر پڑھنے کے بارے میں 7 اہم چیزیں جنہیں سمجھنا ہر پاکستانی اسٹوڈنٹ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

باہر جا کر پڑھنے کے بارے میں 7 اہم چیزیں جنہیں سمجھنا ہر پاکستانی اسٹوڈنٹ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

باہر جا کر پڑھنے کے بارے میں 7 اہم چیزیں جنہیں سمجھنا ہر پاکستانی اسٹوڈنٹ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

 

اعلیٰ تعلیم اور عالمگیریت کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے ساتھ بیرونِ ملک جا کر تعلیم حاصل کرنا گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان کی نوجوان نسل کا پسندیدہ خواب بن چکا ہے۔ طلبہ و طالبات تعلیم کی ثانوی سطح تک پہنچنے کے بعد بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کے امکانات پر غور کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ خاص طور پر ایسی ڈگری کا حصول جو پاکستان کے تعلیمی نظام میں دستیاب نہیں ہے اس کے ساتھ ساتھ بیرونی ممالک میں رہنے اور دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں میں پڑھنے کا تجربہ بھی اپنے آپ میں بے حد سنسنی خیز اور ناقابلِ فراموش ہے۔ اپنے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کی خواہش تو سب کرتے ہیں مگر اس خواب کو کس طرح پورا کرنا ہے یہ ہر کسی کو معلوم نہیں۔ بیرونی ممالک میں تعلیم حاصل کرنا ہر اعتبار سے فائدے کا سودا ہے۔ تاہم بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند اسٹوڈنٹس اور ان کے سرپرستوں کو اچھی طرح سے دیکھ بھال کر قدم اٹھانے کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ اس سے پہلے کہ آپ بھی سامان باندھ کر کسی غیر ملک کی سرزمین پر جا پہنچیں ہم کچھ اہم باتوں کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں کیونکہ کچھ چیزوں کا حقیقت پسندانہ تجزیہ ہمیشہ آپ کے لیے فائدہ مند رہتا ہے۔

 

آپ کے لیے کون سی یونیورسٹی بہترین ثابت ہوگی؟

سب سے پہلے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اپنے آپ کو تھوڑی دیر کے لیے تنقیدی نظر سے دیکھیں اور خود سے تین اہم سوال پوچھیں جس سے آپ کے باہر جا کر پڑھنے کے بارے میں سب کچھ طے ہوجائے گا۔ان تین اہم سوالات میں سے پہلے تو آپ نے یہ طے کرنا ہے کہ آپ کی مزید پڑھائی کے لیے کون سا ملک یا ممالک سب سے بہتر رہیں گے۔؟کون سا کورس پڑھنا آپ کے لیے بہترین ہوگا۔؟ اور آپ کو کون سی یونیورسٹی میں داخلہ لینا چاہیے۔؟ اب ان تینوں سوالات کو ترجیحی بنیادوں پر اپنے سامنے رکھیں اور ان کے مطابق اپنا مستقبل کا لائحہ عمل طے کریں۔ آپ کی مدد کے لیے ہماری گائیڈ لائنز بھی موجود ہیں آپ اچھی طرح اپنے سامنے موجود منظر نامے کا جائزہ لیں اور اس کے بعد فیصلہ کریں کہ آپ کو کون سے ملک میں جا کر کون سی یونیورسٹی میں داخلہ لینا ہے اور کون سا کورس پڑھنا ہے۔

 

بیرونِ ملک تعلیم کے لیے اخراجات کا بندوبست۔

باہر جا کر پڑھنے کے بارے میں سوچتے ہوئے اگلا اور اہم ترین مرحلہ اخراجات کا بندوبست کرنا ہے۔ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ کرنے والے طلباء کو ناقابل واپسی ویزا اور درخواست کی فیس سے لے کر بھاری ٹیوشن فیسوں تک بہت سارے اخراجات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ باہر جانے سے پہلے ہی اپنے مالی معاملات کو حل کرلیا جائے تاکہ بعد میں کسی قسم کی پیچیدگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بہت سارے ممالک جیسے جرمنی، یو کے اور امریکا وغیرہ کی مثال آپ کے سامنے ہے جہاں رہنا اور اچھی تعلیم حاصل کرنا خاصا مہنگا عمل ہے۔ ان ممالک کا نظام ایسا ہے کہ یہ آپ سے پہلے ہی اخراجات کے بارے میں بینک اکائونٹ کی تفصیلات طلب کرتے ہیں تاکہ اندازہ ہوسکے کہ آپ ان ممالک میں رہنے اور پڑھائی کے اخراجات برداشت کرسکتے ہیں یا نہیں۔ اس کے بعد ہی ویزہ جاری کیا جاتا ہے اور قانونی طور پر آپ کو ملک میں داخلے کی اجازت دی جاتی ہے۔ بہت سے طلباء اپنی بین الاقوامی تعلیم کی ادائیگی کے لیے کچھ مالی مدد پر انحصار کریں گے۔ وہ اسکالرشپس کے حصول پر غور کرسکتے ہیں۔ اسکالر شپس کے حوالے سے آپ ہماری متعدد گائیڈز سے مدد لے سکتے ہیں۔ ہمارے کالج گائیڈ پورٹل میں ملکی اور غیر ملکی اسکالر شپس کے حوالے سے تفصیلی بلاگس اور ویڈیوز موجود ہیں جو آپ کے بہت کام آسکتی ہیں، لہٰذا ایک نظر ان پر بھی ڈال لیں۔

دستاویزات کا اہتمام، ویزا اور داخلے کا انتظام۔

ضروری دستاویز کا اہتمام یقیناً ایک چیلنج ہے۔ کسی تعلیمی ادارے میں داخلے کے لیے پیش کئے جانے والے کاغذات اور ویزہ کے حصول کے لیے پیش کئے جانے والے ڈاکیومینٹس مختلف ہوتے ہیں اور دونوں ہی اپنی اپنی جگہ پر انتہائی ضروری ہیں۔ اپنی تعلیمی اسناد کی فوٹو کاپی کرالیں اور متعلقہ حکام سے تصدیق کرالیں اس کے ساتھ ساتھ آئیلٹس یا ٹوفل کے ٹیسٹ کا رزلٹ سنبھال کر رکھیں۔ مالی اخراجات کے ثبوت کے لیے اپنے بینک کا اسٹیٹمنٹ اپنے پاس رکھیں۔ رہائش اور میڈیکل انشورنس کے لئے اپنے ضروری کاغذات سنبھال کر رکھیں۔ جب آپ کسی کالج یا یونیورسٹی میں اپلائی کرتے ہیں تو اس ادارے میں جمع کروائی جانے والی دستاویزات کا آپ کے پاس ہونا نہایت اہم ہوتا ہے۔ بیرون ملک پڑھائی کے لیے جانے سے قبل اپنے داخلے کے لیے ضروری تمام دستاویزات اپنے پاس ضرور رکھیں تاکہ آپ کا سفر بغیر کسی مشکل کے مکمل ہو۔ ہر وہ دستاویز فراہم کریں جو آپ سے طلب کی گئی ہو۔ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے وہاں کے تعلیمی اداروں میں داخلے کے طریقہء کار سے آگہی حاصل کی جائے تاکہ انکی ڈیمانڈز کے مطابق ہر چیز انہیں بروقت فراہم کی جا سکے۔ آپ نے اگر ایک چھوٹی سی معلومات بھی مس کردی تو آپ کو آخری منٹ میں بھی تکلیف اٹھانی پڑ سکتی ہے۔ اس لئے اس حوالے سے ہمیشہ حساس اور ذمے دار رہیں اور اپنی تمام دستاویزات کو اپنے پاس سنبھال کر رکھیں۔ اگر آپ ان تمام مراحل کے بارے میں جانتے ہیں اور کھلی آنکھوں کے ساتھ قدم با قدم آگے بڑھتے ہیں تو اس چیلنج کو پورا کرنا آپ کے لیے کچھ مشکل نہیں ہوگا۔ 

 

 

بروقت درخواست دینا

ملک اور یونیورسٹی کے انتخاب کے بعد اگلی جس چیز کے بارے میں آپ نے کام کرنا ہے وہ ہے ایڈمیشن ڈیڈ لائن۔ آپ جس یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے خواہش مند ہیں اس کے بارے  میں جان لیں کہ وہاں داخلے کے لیے ڈیڈ لائن کیا ہے، عموماً یونیورسٹیز میں سال میں دو بار داخلے دیئے جاتے ہیں، سمر سیشن اور آٹم سیشن۔ ہر سیشن کے لیے ایپلی کیشن پروسیجر کلاسز کے آغاز سے تین ماہ پہلے شروع ہوجاتا ہے اس لیے آپ کو بھی اپنا شیڈول اسی طرح سے ترتیب دینا چاہیے کہ ضروری ڈاکیومینٹس جمع کرانے، ویزا حاصل کرنے اور یونیورسٹی میں داخلہ لینے میں جو وقت خرچ ہوگا وہ آپ کی کلاسز پر اثر انداز نہ ہو۔  

 

اسٹوڈنٹ ویزا کی پیچیدگی۔

کچھ ممالک میں پاکستانی اسٹوڈنٹس کے لیے کچھ سخت شرائط پر مبنی ویزا پالیسیز ہیں جبکہ کچھ ممالک میں ویزا کی پالیسیز سادہ ہیں۔ اب یہ آپ کی اسٹڈی ایبروڈ ڈیسٹینیشن پر منحصر ہے کہ آپ کہاں جا کر پڑھنا چاہتے ہیں۔ آپ جس ملک میں جانا چاہیں گے آپ پر اسی ملک کی پالیسیز کا اطلاق ہوگا۔ تاہم اسٹوڈنٹ ویزا لینا اتنا مشکل نہیں ہوتا، ذرا سی محنت کرکے آپ ویزا  حاصل کرسکتے ہیں۔ اگر ویزا کے حصول کے لیے آپ کی کاغذی کارروائی مکمل ہے تو آپ کو کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی۔ فارن ایمبیسی کے ضابطے سے گزرنے کے بعد آپ کو ویزا مل جائے گا۔ غیر ملکی یونی ورسٹی سے ایکسیپٹینس لیٹر (رضامندی کا پروانہ) ملنے کے بعد پاکستانی اسٹوڈنٹس کے لیے ضروری ہے کہ باہر جانے کے سلسلے میں فارن ایمبیسی سے رجوع کریں کیونکہ ویزا کے حصول کا طویل اور پیچیدہ پراسس مکمل کرنے کے لیے آپ کو ایمبیسی کی رہنمائی کی ضرورت پڑے گی۔ کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچنے کے لیے ہر قسم کی غلطی اور بے دھیانی سے پرہیز کریں تاکہ آپ مستقبل میں کسی قسم کی مشکل سے محفوظ رہ سکیں۔       

   

ناکامی کے خوف پر قابو پائیں۔

بہت سے اسٹوڈنٹس کے لیے باہر جا کر پڑھنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوتا۔ انہیں یہ ڈر ہوتا ہے کہ لوگ ان کے بارے میں نہ جانے کیا سوچیں گے، ان کے ساتھ کس طرح پیش آئیں گے۔ داخلہ مسترد ہونے کا خوف بھی انہیں ہچکچاہٹ میں  مبتلا کئے رکھتا ہے۔ داخلے کے امتحانات میں ناکامی کا خوف، انٹرویو میں پیش ہونے کی بے چینی اور ہر قدم پر کمال کا مطالبہ انہیں پریشانی اور ذہنی تنائو کا شکار بنا دیتا ہے۔ لیکن اگر آپ اس خوف پر قابو پالیں اور تصویر کے روشن پہلو پر نظر رکھیں یعنی آپ کی کامیابی اور زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے پیشرفت آپ کے سامنے رہے تو آپ آسانی سے اس خوف پر قابو پاسکتے ہیں۔ آپ کا اعتماد اور نئی چیزوں کو قبول کرنے کا رویہ ان خدشات کو ختم کردے  گا اور ان کاموں کو انجام دینا بہت آسان ہوجائے گا۔

اپنی منزل پر نظر رکھیں

باہر جا کر پڑھنا بے شک ایک مشکل فیصلہ ہوتا ہے مگر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اداروں سے علم حاصل کرنا، زندگی کے نئے تجربات حاصل کرنا، ایک نئے ملک میں زندگی گزارنا اور اپنی بہترین اور کامیاب زندگی کے لیے راہ ہموار کرنا یہ سب وہ عزائم اور لگن ہے جو پاکستانی طلبا کو اس عمل کو شروع کرنے پر راضی کرتے ہیں۔ یہ بھی اپنے آپ میں ایک چیلنج ہے کہ اپنی منزل پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے مالی اخراجات کا بندوبست کرنا، اسٹوڈنٹس ویزہ کی پیچیدگیوں سے نمٹنا، ناکامی کے خوف اور خدشے پر قابو پانا، خود کو ہر قسم کے ذہنی تنائو سے بچانا اور تعلیمی اسناد سمیت دیگر ضروری دستاویزات کا بندوبست کرنا۔۔۔ لیکن جب آپ یہ سب چیزیں اچھے طریقے سے کرلیں گے تو آپ کے لیے آگے کے مراحل طے کرنا بہت آسان ہوجائے گا۔

 

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں ©️ 2021 کیمپس گرو

کیا آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہے
ڈسکس کریں

× کلک کریں