پاکستان میں ایم بی اے کا اسکوپ

پاکستان میں ایم بی اے کا اسکوپ

پاکستان میں ایم بی اے کا اسکوپ

ایم بی اے یعنی ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن حصولِ علم کا ایک ماسٹرز کے درجے کا پروگرام ہے جو طلبا کو بزنس ایڈمنسٹریشن کے شعبے میں اعلیٰ درجے کی مہارت مہیا کرنے اور اہلیت سے لیس کرنے کی غرض سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

کاروباری دنیا میں بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری ہمیشہ مانگ میں رہتی ہے کیونکہ مارکیٹنگ، صنعت یعنی انڈسٹری، فنانس اور آئی ٹی کے شعبوں میں ایم بی اے کی ڈگری رکنے والے افراد کی طلب ہمیشہ عروج پر رہتی ہے۔

یہ ڈگری اُن لوگوں کے لیے خاص طور پر کارآمد ہے جو انڈسٹری اور متعلقہ شعبوں کے انتظامی امور میں اپنا کیریئر بنانا چاہتے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ بھی آپ کے علم میں ہے کہ بزنس مینیجمنٹ کی ڈگری کا حصول دنیا میں سب سے زیادہ ملازمت کو یقینی بنانے والے تعلیمی ڈگری کورسز میں سے ایک رہا ہے۔

کورسز اور پروگرامز؟

اگر آپ نے اپنی گریجویشن مکمل کرلی ہے تو پھر آپ ایم بی اے کے پروگرام میں داخلے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

بہت سارے اداروں میں داخلے کے نظام کی اپنی شکل ہوتی ہے جس پر وہ عمل درآمد کرتے ہیں لیکن کچھ ادارے آپ سے جی ایم اے ٹی (گریجویٹ مینیجمنٹ داخلہ ٹیسٹ) اسکور بھی طلب کرتے ہیں۔

ایم بی اے میں مہارت حاصل کرنے کا ایک وسیع منطقہ ہے۔ تاہم، پاکستان میں ایم بی اے پروگرام میں پیش کی جانے والی اہم تخصیص میں درج ذیل مضامین شامل ہیں۔

فنانس۔

مارکیٹنگ۔

آپریشن۔

انٹرنیشنل بزنس۔

بینکنگ۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی۔ (آئی ٹی)

ہیومن ریسورسز۔ (ایچ آر)

اکائونٹنگ۔

آئل اینڈ گیس۔

ٹوٹل کوالٹی مینیجمنٹ۔ (ٹی کیو ایم)

ریٹیل۔

سپلائی چین۔

ایونٹ۔

ٹورازم اینڈ ہوٹلز۔

پاکستان میں بھی اب ایک ایگزیکٹو ایم بی اے ماسٹرز کی ڈگری انتہائی مقبول ہے۔

کام کرنے والے پیشہ ور افراد جو اپنے کیریئر میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں یا اپنے ملازمت کے پروفائل کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں وہ پارٹ ٹائم یا دوری سے سیکھنے کے پروگرام کے طور پر ای ایم بی اے کرسکتے ہیں۔ پاکستان میں بہت سے ایسے انسٹی ٹیوٹس موجود ہیں جو ای ایم بی اے پروگرام آن لائن اور پارٹ ٹائم پیش کرتے ہیں۔ اگر اپ چاہیں تو ان سے استفادہ حاصل کرسکتے ہیں۔ 

پاکستان میں داخلے کے قواعد و ضوابط۔

ساڑھے تین سال کے ایم بی اے پروگرام میں داخلے کے لیے:

طلباء کو انڈرگریجویٹ ڈگری۔ بی اے، بی ایس سی، بی کام یا کسی بھی دوسرے بیچلرز پروگرام کی ضرورت ہوتی ہے۔

ڈیڑھ سال کے ای ایم بی اے پروگرام کے لیے طلبا کو اپنی ملازمت کے تجربے کا سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا۔

عام طور پر ای ایم بی اے میں داخلے کے لیے چار سال کا تجربہ لازمی قرار دیا جاتا ہے۔

جاب پروفائل:

برانڈ مینیجر۔

اکائونٹ مینیجر۔

انٹرنیشنل بزنس مینیجر۔

مارکیٹنگ ایگزیکیٹو۔

بزنس ٹیکنیکل کنسلٹنٹ۔

بزنس ڈیولپمنٹ ایگزیکیٹو۔

مارکیٹنگ مینیجر۔

مینیجمنٹ کنسلٹنٹ۔

پاکستان میں، ایچ ای سی سے منظور شدہ اعلیٰ ترین اداروں میں درج ذیل شامل ہیں۔

یونیورسٹی آف ایگریکلچر (یو اے ایف) فیصل آباد۔

این ڈبلیو ایف پی یونیورسٹی آف ایگریکلچر، پشاور۔

یونیورسٹی آف ایرِڈ ایگریکلچر، راولپنڈی۔

لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنز (لمس) لاہور۔

انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن(آئی بی اے) کراچی۔

بہائوالدین زکریا یونیورسٹی( بی زیڈ یو) ملتان۔

شہید ذوالفقارعلی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، اسلام آباد۔

شہید ذوالفقارعلی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، کراچی۔

لاہور اسکول آف اکنامکس، لاہور۔

اقرا یونیورسٹی، اسلام آباد۔

انسٹیٹیوٹ آف بزنس مینیجمنٹ کراچی( آئی بی ایم)

سی ای سی او ایس، پشاور۔

محمد علی جناح یونیورسی، اسلام آباد۔

سٹی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی،پشاور۔

نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، راولپنڈی۔

انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد۔

قائد اعظم یونیورسٹی، اسلام آباد۔

یونیورسٹی آف پشاور، پشاور۔

گورنمنٹ کالج لاہور یونیورسٹی، لاہور۔

اسریٰ یونیورسٹی، حیدر آباد۔

یونیورسٹی آف بلوچستان سریاب روڈ، کوئٹہ۔

گومل یونیورسٹی، ڈی آئی خان۔

یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر، مظفر آباد۔

لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی، لاہور۔

ہزارہ یونیورسٹی، ڈوڈھیال، مانسہرہ۔

فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی، راولپنڈی۔

بحریہ یونیورسٹی، اسلام آباد۔

شاہ عبداللطیف یونیورسٹی، خیرپور۔

جناح یونیورسٹی فار ویمن، کراچی۔

کامسیٹس انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، اسلام آباد۔

سُپیریئر یونیورسٹی، لاہور۔

یونیورسٹی آف سرگودھا۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں ©️ 2021 کیمپس گرو

کیا آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہے
ڈسکس کریں

× کلک کریں